وزیراعظم شہباز شریف کا پی آئی اے کے پیرس فلائٹ اشتہار کی تحقیقات کا حکم

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے متنازع اشتہار کے خلاف عوامی ردعمل کے بعد فوری تحقیقات کا حکم دے دیا۔ یہ اشتہار قومی ایئرلائن کی یورپ کے لیے چار سال بعد دوبارہ شروع ہونے والی پروازوں کے اعلان کے لیے جاری کیا گیا تھا۔

متنازع پوسٹ اور عوامی تنقید

پی آئی اے نے اپنے آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر ایک پوسٹ شیئر کی، جس میں ایک طیارہ ایفل ٹاور کی جانب پرواز کرتے ہوئے دکھایا گیا، جبکہ پس منظر میں فرانسیسی پرچم بھی نظر آ رہا تھا۔ پوسٹ کا عنوان تھا: "پیرس، ہم آج آ رہے ہیں"۔

تاہم، اس تصویر کو سوشل میڈیا پر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اس کی منظرکشی 9/11 کے دہشت گرد حملوں سے مشابہت رکھتی تھی۔ یہ وہ حادثہ تھا جس میں تقریباً 3,000 افراد ہلاک ہوئے تھے جب ہائی جیک کیے گئے طیارے امریکہ کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر، پینٹاگون اور پنسلوانیا کے ایک میدان میں ٹکرا گئے تھے۔

وزیراعظم کا سخت نوٹس

ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سینیٹ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے حکم دیا ہے کہ معلوم کیا جائے یہ اشتہار کس نے بنایا۔ ان کے الفاظ میں:
"وزیراعظم نے ہدایت دی ہے کہ اس اشتہار کو کس نے تیار کیا؟ یہ سراسر حماقت ہے۔"

اس کے ساتھ ساتھ ڈپٹی وزیراعظم نے اشتہار کے عنوان پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔

عوامی ردعمل اور سوالات

سوشل میڈیا پر صارفین نے پی آئی اے کی تخلیقی ایجنسی کی اہلیت پر سوالات اٹھائے۔ معروف صارف عمر قریشی نے X پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے اشتہار سے قومی وقار مجروح ہو سکتا ہے۔

نتیجہ

یہ واقعہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ قومی اداروں کو اپنی تشہیری مہمات میں زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے تاکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا مثبت تاثر برقرار رکھا جا سکے۔ وزیراعظم کے اس بروقت اقدام کو عوامی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے۔

کلیدی الفاظ: پی آئی اے اشتہار، وزیراعظم شہباز شریف، ایفل ٹاور، متنازع پوسٹ، 9/11 مشابہت، قومی وقار، پی آئی اے پروازیں، یورپ فلائٹس

Comments

Popular posts from this blog

زمبابوے کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کی شاندار شروعات-

سوڈان میں اخوان المسلمون: مذہب کے نام پر سیاست کا انجام

ابراہیم معاہدوں کا پہلا بڑا امتحان: ایرانی حملے اور امریکی خاموشی