پاکستانی شہریوں کی روانڈا منتقلی: 75 افراد گومہ سے منتقل، مزید افراد کی منتقلی کی توقع
پاکستانی شہریوں کی روانڈا منتقلی: 75 افراد گومہ سے منتقل، مزید افراد کی منتقلی کی توقع
اسلام آباد: جمہوریہ کانگو کے علاقے گومہ میں تشویش ناک صورتحال کے بعد پاکستان کے 75 شہریوں کو روانڈا منتقل کر دیا گیا ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے 30 جنوری 2025 کو تصدیق کی کہ گومہ میں پھنسے ہوئے 150 پاکستانی شہریوں کی مدد کے لیے پاکستان کے ہائی کمیشن نے فوری اقدامات کیے۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کے ہائی کمیشن کی فعال مصروفیت کی بدولت روانڈا حکام نے ان پاکستانی شہریوں کو اپنے ملک میں داخل ہونے کی اجازت دی۔ اب تک 75 پاکستانی شہری روانڈا منتقل ہو چکے ہیں، جبکہ باقی افراد کی منتقلی کا عمل جاری ہے۔
گومہ میں بڑھتی ہوئی تشویش
گومہ، جو شمالی کیوو صوبے کا دارالحکومت ہے اور جہاں کی آبادی دو ملین افراد پر مشتمل ہے، 27 جنوری کو ایم23 باغی گروہ کے قبضے میں آ گیا تھا۔ باغیوں نے گومہ پر قبضہ کرنے کے بعد جنوبی سمت میں پیشقدمی کی ہے، اور وہ کیوو جھیل کے مغربی کنارے تک پہنچ گئے ہیں، جہاں بُکاؤو کا ہوائی اڈہ بھی واقع ہے۔
پاکستانی ہائی کمیشن کا کردار
پاکستان کے ہائی کمیشن نے فوری طور پر متاثرہ شہریوں کے لیے رہائش اور کھانے کا انتظام کیا ہے۔ ہائی کمیشن نے پاکستانی کمیونٹی کے افراد سے رابطہ کر کے کسی بھی مشکل میں مبتلا شہریوں کی مدد فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ شفقت علی خان نے کہا کہ مزید پاکستانیوں کی روانڈا منتقلی کے امکانات موجود ہیں۔
گومہ میں جاری تشویش
ایم23 باغی گروہ کا گومہ پر قبضہ ایک سنگین صورتحال کا آغاز ہے، جو کئی سالوں سے مختلف مسلح گروپوں کے درمیان جاری جنگ کا حصہ ہے۔ روانڈا کا کہنا ہے کہ اس کا بنیادی مقصد 1994 کے نسل کشی کے بعد ان جنگجوؤں کو شکست دینا ہے، تاہم اس پر الزام بھی لگایا جا رہا ہے کہ وہ اس علاقے کے معدنی وسائل سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پاکستانی شہریوں کے لیے اقدامات
پاکستانی ہائی کمیشن نے گومہ میں پھنسے شہریوں کی مدد کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے ہیں۔ اس وقت بھی پاکستانی سفارتی عملہ گومہ، بُکاؤو اور دیگر متأثرہ علاقوں میں پاکستانی شہریوں سے رابطے میں ہے تاکہ کسی بھی مزید مشکل میں مبتلا افراد کی فوری مدد کی جا سکے۔
نتیجہ
پاکستانی شہریوں کی روانڈا منتقلی ایک اہم اقدام ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ جمہوریہ کانگو میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر، پاکستانی حکومت کی کوششیں قابل تحسین ہیں اور یہ اس بات کا غماز ہیں کہ عالمی سطح پر پاکستانی شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
Comments
Post a Comment