ایف آئی اے نے 6,700 غیر ملکی سمز کی اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی

ایف آئی اے نے 6,700 غیر ملکی سمز کی اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی
پاکستان میں موبائل فون سمز کی اسمگلنگ کا ایک اور بڑا کیس سامنے آیا ہے۔ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے ملتان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 6,700 غیر ملکی سمز کی اسمگلنگ کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا۔ مشتبہ شخص کی شناخت محمد زہیب کے طور پر کی گئی ہے، جو کہ لندن سے پاکستان آ رہا تھا اور اس کا سامان چیک کرنے پر یہ سمز برآمد ہوئیں۔
ایف آئی اے کے حکام نے بتایا کہ محمد زہیب کو دوحہ سے آنے والی پرواز QR-618 پر پاکستان پہنچتے ہی روکا گیا تھا۔ اس کی بیگج چیکنگ کے دوران 6,700 غیر ملکی موبائل سمز برآمد ہوئیں، جو کہ برطانیہ سے پاکستان اسمگل کی جا رہی تھیں۔ اس اسمگلنگ کی کوشش کو ایف آئی اے نے بروقت ناکام بناتے ہوئے مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا۔
پی ای سی اے 2016 کے تحت تفتیش کا آغاز
ایف آئی اے حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس اسمگلنگ کیس کے حوالے سے تفتیش پی ای سی اے (پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ) 2016 کے تحت کی جا رہی ہے۔ پی ای سی اے ایک ایسا قانون ہے جس کے تحت سائبر کرائمز اور الیکٹرانک ذرائع سے جڑے جرائم کی روک تھام کی جاتی ہے۔
نیا پی ای سی اے ترمیمی بل 2025
پاکستان میں حالیہ دنوں میں پی ای سی اے 2016 میں ترمیم کے حوالے سے بھی بڑی خبریں آئی ہیں۔ صدر آصف علی زرداری نے 29 جنوری 2025 کو پی ای سی اے ترمیمی بل 2025 کی توثیق کر دی۔ اس بل میں نئے قواعد و ضوابط، تحقیقی اداروں کے قیام اور سائبر کرائمز کی سزاوں کو مزید سخت کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
نئے قانون کے مطابق، اگر کوئی شخص جان بوجھ کر جعلی یا جھوٹی معلومات پھیلائے گا جس سے عوام میں خوف یا بے چینی پیدا ہو، تو اسے تین سال تک کی سزا یا دو لاکھ روپے تک کا جرمانہ ہو سکتا ہے۔ مزید برآں، اس بل کے ذریعے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی نئے ضوابط کے تحت رجسٹر کروانے کی تجویز دی گئی ہے۔
ایف آئی اے اور پی ای سی اے کے تحت اسمگلنگ کی روک تھام
ایف آئی اے اور پی ای سی اے کے تحت اس قسم کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ یہ اسمگلنگ دراصل غیر قانونی طریقوں سے پاکستان میں موبائل سمز کی تقسیم کو فروغ دینے کی کوشش ہوتی ہے، جو نہ صرف قانونی مسائل کا باعث بنتی ہے بلکہ ملکی سکیورٹی کے لیے بھی خطرہ ہو سکتی ہے۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ اس قسم کی غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی تاکہ ان کے ذریعے ہونے والی دہشت گردی، فراڈ اور دیگر سائبر جرائم کو روکا جا سکے۔
نتیجہ
پاکستان میں غیر قانونی موبائل سمز کی اسمگلنگ کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے ایف آئی اے کی کوششیں قابل ستائش ہیں۔ پی ای سی اے 2016 میں ہونے والی ترمیم اور سخت سزاؤں کے نفاذ سے نہ صرف سائبر کرائمز کی روک تھام میں مدد ملے گی بلکہ پاکستان کے سیکیورٹی اور قانون کی حکمرانی کو بھی مزید مستحکم کیا جائے گا۔
کلمات کلیدی:
ایف آئی اے، غیر ملکی سمز، پی ای سی اے، موبائل سمز اسمگلنگ، سائبر کرائم، پاکستان، ملتان ایئرپورٹ، سیکیورٹی، پی ای سی اے ترمیمی بل 2025، جعلی معلومات، سوشل میڈیا ریگولیشن
Comments
Post a Comment