پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی رینکنگ 2025
پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی رینکنگ 2025: کمزور ترین پاسپورٹس میں شامل
پاکستانی پاسپورٹ ایک بار پھر دنیا کے کمزور ترین پاسپورٹس کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔ ہینلے پاسپورٹ انڈیکس 2025 کے مطابق، پاکستانی پاسپورٹ کو 199 ممالک میں سے 103ویں نمبر پر رکھا گیا ہے، جو یمن کے ساتھ اس مقام پر ہے۔
پاکستانی پاسپورٹ کے ویزا فری ممالک
ہینلے انڈیکس کی رپورٹ کے مطابق، پاکستانی پاسپورٹ کے حامل افراد کو صرف 33 ممالک میں ویزا فری داخلے کی اجازت ہے، جو اسے دنیا کے کمزور ترین پاسپورٹس میں شامل کرتا ہے۔
ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کیا ہے؟
ہینلے پاسپورٹ انڈیکس ہر سال دنیا کے 199 پاسپورٹس کی رینکنگ جاری کرتا ہے۔ یہ رینکنگ ان پاسپورٹس کے ویزا فری مقامات کی تعداد کی بنیاد پر کی جاتی ہے اور اس کے لیے انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (IATA) کے خصوصی ٹیمیٹک ڈیٹا کا استعمال کیا جاتا ہے۔
2025 کی سب سے مضبوط پاسپورٹس
- سنگاپور نے پہلی پوزیشن حاصل کی ہے، جس کے پاسپورٹ کے حامل افراد کو 195 ممالک میں ویزا فری رسائی حاصل ہے۔
- جاپان دوسرے نمبر پر ہے، جبکہ فرانس، جرمنی، اٹلی، اور اسپین سمیت کئی یورپی ممالک تیسرے نمبر پر ہیں۔
- امریکہ نویں نمبر پر آ گیا ہے، جو 2015 میں دوسری پوزیشن پر تھا۔
پاکستانی پاسپورٹ کی پوزیشن
2025 میں پاکستانی پاسپورٹ کی رینکنگ میں کوئی بہتری نہیں آئی، اور یہ بدستور کمزور ترین پاسپورٹس میں شامل ہے۔ اس سے نیچے صرف عراق (104ویں)، شام (105ویں)، اور افغانستان (106ویں) ہیں۔
پاکستان سے اوپر والے ممالک میں سومالیہ (102ویں)، نیپال، فلسطین، اور بنگلہ دیش شامل ہیں۔
دیگر ممالک کی رینکنگ
- بھارت: 85ویں پوزیشن
- چین: 60ویں پوزیشن
- ایران: 96ویں پوزیشن
- سعودی عرب: 58ویں پوزیشن
2024 میں پاکستانی پاسپورٹ کی رینکنگ
2024 میں بھی پاکستانی پاسپورٹ دنیا کے چوتھے کمزور ترین پاسپورٹس میں شامل تھا۔
پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی رینکنگ پر اثرات
پاکستانی پاسپورٹ کی کمزور پوزیشن ملک کے شہریوں کے لیے بین الاقوامی سفر کو مشکل بنا دیتی ہے۔ ویزا فری رسائی کی محدود تعداد پاکستانیوں کے لیے سفری پابندیوں کو بڑھا دیتی ہے، جو کاروباری اور سیاحتی مقاصد کے لیے مسائل کا سبب بنتی ہے۔
نتیجہ
پاکستان کو اپنے بین الاقوامی تعلقات اور پاسپورٹ کی طاقت میں بہتری کے لیے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ مضبوط سفارتی تعلقات اور عوام کے لیے آسان سفری مواقع فراہم کر کے پاسپورٹ کی رینکنگ کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی رینکنگ میں بہتری کے لیے حکومت اور عوام کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ میں اضافہ ہو۔
Comments
Post a Comment